بھٹکل:12/ڈسمبر (ایس او نیوز) مرڈیشور کو سیاحتی مرکز بنانے میں جو رکاوٹیں درپیش ہیں ان کا خاتمہ فی الحال نظر نہیں آرہاہے ، یکے بعد دیگرے کوئی نہ کوئی مسئلہ اس کے لئے سدراہ بن رہاہے۔ آبی کھیلوں اور آبی حوصلہ مند کھیلوں کی حمایت اور مخالفت میں گروہ بندی شروع ہوگئی ہے۔ آپسی تکرار انتہاکو پہنچنے سے مسئلہ مزید پیچیدگی کا شکار ہوگیاہے۔
اتوار کو ضلعی انتظامیہ کی منظوری لے کر ممبئی ، اندھیری ویسٹ کوسٹ اڈونچرس نامی ادارے کے پون سریا اور ساتھی نیترانی جزیرے کے قریب اسکوبا ڈائیونگ کرنےسمندر ی سفر شروع کیا تو مرڈیشور علاقہ کے ماہی گیرایک گروہ بن کر ان کا پیچھا کرتے ہوئے اپنا احتجاج درج کیا اسکوبا ڈرائیونگ پر پابندی عائد کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے امتناعی احکامات جاری کئے ہیں، اس بنا پر مقامی ماہی گیروں نے اسکوبا ڈائیونگ کو ہرحال میں روکنے کی بات کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق حالات کے پیش نظر اسکوبا ڈائیونگ کے ذریعے مہم جو ئی کو فروغ دینے کے لئے پہنچے افراد تذبذب میں مبتلا ہوکر اترکنڑا ضلع ڈی سی کو فون پر رابطہ کیا اورواقعے کی شکایت کی ، جس پر کارروائی کرتے ہوئے ڈی سی کے حکم نامے کے تحت ماہی گیر سنگھا کے صدر کرشنا ہری کانت، منجوہری کانت، گوند ہری کانت، شنکر ہری کانت، وسنت ہری کانت سمیت کل 10لوگوں پر مرڈیشور پولس نے امن میں خلل ڈالنے کے الزام میں کیس درج کرلیا ہے۔
اس دوران ضلع ماہی گیر محکمہ کے نائب ڈائرکٹر ایم ایل دوڈمنی پیر کی شام مرڈیشور پہنچ کر حالات کا معائنہ کرنے کے بعد غیر قانونی طورپر ایک کشتی پر زیادہ افراد کو لے کر سمندری سفر کئے جانےکے الزام میں احتجاج کے لئے استعمال کی گئی کشتی پر 5000 ہزار روپئے کا جرمانہ عائد کیا ہے ۔ اس تعلق سے گفتگو کرتےہوئے ماہی گیر سنگھا کے صدر کرشنا ہری کانت نے کہاکہ اسکوبا ڈائیونگ پر ہائی کورٹ نے امتناعی احکامات جاری کئے ہیں، یہاں عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ انہوں نے اس تعلق سے ہائی کورٹ میں ہتک عدالت کا معاملہ درج کرنے کا انتباہ دیا۔